Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Breaking News: Iran announces end to attack on Israel Breaking News: Iran announces end to attack on Israel What is happening to Pakistanis in UAE? A Deportee Speaks Out What is happening to Pakistanis in UAE? A Deportee Speaks Out Alleged leaked audio of Joint Public Action Committee top leadership Alleged leaked audio of Joint Public Action Committee top leadership 64 years old husband tells how and why he killed his 58 years old wife 64 years old husband tells how and why he killed his 58 years old wife Azad Kashmir: Attack on Military Installations, Next 48 Hours Critical - Details by Mansoor Ali Khan Azad Kashmir: Attack on Military Installations, Next 48 Hours Critical - Details by Mansoor Ali Khan Why are there protests in Pakistan Administered Kashmir? - BBC report Why are there protests in Pakistan Administered Kashmir? - BBC report

Fayaz Chohan's tweet about Mufti Samar Abbas on his apology after being accused of blasphemy


مفتی ثمر عباس عطاری نے کچھ دن قبل ایک تقریر کی جس پر ان پر توہینِ رسالت کا الزام لگ گیا، جواب میں انہوں نے معافی مانگ لی اور بڑی آسانی سے چھوٹ گئے۔ اس پر فیاض چوہان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عام آدمی سے ایسی غلطی ہو تو اس پر 295 سی کا مقدمہ قائم ہوتا ہے اور وہ جیل جاتا ہے، مگر ایک مولوی صرف معافی مانگ کر چھوٹ گیا؟ ملاحظہ کیجئے فیاض الحسن چوہان کی ٹویٹ

مفتی ثمر قادری نے نبی پاکٌ سے ایک بے بنیاد حدیث ایک انتہائی ذومعنی اور غیر اخلاقی مفہوم کے ساتھ منسوب کی۔۔۔باوجود اِس کے کہ اُس نے فوراً معافی مانگ لی۔۔۔لیکن میری ناقص رائے میں اُس پر ملک کے قانون 295/c لگنی چاہیے اور عدالت میں اُس کے خلاف باقاعدہ کیس چلنا چاہیے۔۔۔۔آخر کیوں۔۔۔:
وہ اِس لیے کہ یہ بد عقل اور بد سمجھ آدمی دین کی اعلیٰ تعلیم اور مفتی ہونے کا دعویدار ہے۔اِس نے پانچ منٹ تک ایک بے بنیاد ذومعنی فحش گفتگو کی اور نعوذباللہ معاذاللہ نبی پاکٌ کی ذات اقدس سے منسوب بھی کی۔۔۔۔یہ قطعاً بھی سِلپ آف ٹنگ،زبان کا پھسلنا اور غیر ارادتاً نہیں ہو سکتا۔۔!!!!
عدالت اِس کا معافی نامہ قبول کرے یا نہ کرے یہ وہ جانے اور عدالت جانے۔۔۔لیکن قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔۔۔۔چاہے وہ مولوی،ذاکر،سیکولر، عام اور خاص ہو۔۔۔!!!
مفتی ثمر عباس کی ایک بات قابلِ تحسین ہے کہ اُس نے فوراً اپنی غلطی،گستاخی اور گناہ پر معافی مانگی اور رجوع کیا۔۔۔یہ معاملہ اللہ اور اُس کے درمیان ہے اور اللہ معاف کرنے والا ہے۔۔۔لیکن ملکی قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہیے۔۔۔!!!!







Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...