Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US First video of Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei has been released First video of Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei has been released Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire Israel shaken by explosions, defense system fails, 4 bodies recovered from rubble Israel shaken by explosions, defense system fails, 4 bodies recovered from rubble Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran Trump’s latest threat to Iran in his tweet - ‘A whole civilization will die tonight’ Trump’s latest threat to Iran in his tweet - ‘A whole civilization will die tonight’

Afghan Taliban bans Television across the country, only radio is allowed



ٹی وی میں جانداروں کی تصاویر آتی ہیں جو کہ اسلام میں حرام ہیں۔ طالبان نے ملک بھر میں ٹی وی چینلز کو بند کرنے کا حکم صادر کردیا۔ صرف اور صرف ریڈیو چلے گا۔

آزادیوں کو محدود کرنے اور افغانستان میں سخت قوانین نافذ کرنے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے طالبان نے ٹیلی ویژن چینلوں سے کہا کہ وہ اپنی نشریات کو صرف آڈیو تک محدود کردیں۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ افغانستان میں نیشنل ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر جنرل قاری یوسف احمدی نے گزشتہ ہفتے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی شاخوں کے سربراہوں سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ طالبان رہنما ملا ھبۃ اللہ اخوند زادہ نے ان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات بند کردیں کیونکہ وہ جانداروں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

قاری یوسف احمدی نے مزید کہا کہ ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات بند کر دی جائیں گی اور انہیں ریڈیو سٹیشنوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ قندھار (ملک کے جنوب) میں قومی ٹیلی ویژن کو ریڈیو میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کی نشریات نے منگل کو 9 دیگر ریاستوں میں بھی نشریات بند کر دی ہیں اور اپنی نشریات کو آڈیو نشریات میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا اس فیصلے سے تمام چینلز (سرکاری اور نجی) متاثر ہوں گے یا نہیں۔ لیکن یہ اطلاع ملی ہے کہ حکومتی وزیروں میں سے ایک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ فیصلہ صرف سرکاری چینلز تک محدود رہے گا۔

’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ذرائع نے تمام چینلز پر اس فیصلے کے اطلاق کو تمام چینلز تک لاگو کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے بشرطیکہ اس کے لیے ان چینلز کو دو ماہ کا وقت دیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ افغان باشندے دو ماہ بعد ٹیلی ویژن دیکھنے سے مستقل طور پر محروم ہو جائیں گے۔

ستمبر کے شروع میں طالبان نے صوبہ قندھار میں سرکاری ٹیلی ویژن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا اور اس پر جانداروں کی ویڈیو نشر کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ اسی مہینے میں خواتین کو عوامی مقامات پر اونچی آواز میں بولنے سے بھی منع کیا گیا تھا۔

واضح رہے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے بہت سے سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔ ان میں خواتین کو گھروں سے باہر اپنے چہرے کو ظاہر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ شادیوں میں موسیقی یا رقص پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ کئی بیوٹی سیلون بھی بند کر دیے گئے ۔ طالبان نے مردوں کو داڑھی منڈوانے یا "نامناسب" مغربی لباس پہننے سے بھی روکا ہے۔

افغان حکومت نے خواتین کے تعلیم اور کام کے حق کو بھی بہت حد تک محدود کر دیا ہے۔ لڑکیوں کو ثانوی سکولوں سے بھی باہر کردیا ہے۔


Source



Comments...