Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
They’ve taken too long to negotiate a deal.... now they will have to pay the price - Trump Tweets They’ve taken too long to negotiate a deal.... now they will have to pay the price - Trump Tweets Iran–US deal will be of 14 points - Abbas Araqchi tells some details of the agreement Iran–US deal will be of 14 points - Abbas Araqchi tells some details of the agreement DG Khan: The accused climbed on a palm tree to avoid arrest DG Khan: The accused climbed on a palm tree to avoid arrest Jhang: What do we know about the case of 17-year-old Eshal Fatima? Jhang: What do we know about the case of 17-year-old Eshal Fatima? India: Veg Biryani should be called Veg Pulav in Haridawar, demand by a Hindu group India: Veg Biryani should be called Veg Pulav in Haridawar, demand by a Hindu group IRGC claims firing missile at F-16 plane entering Persian Gulf airspace IRGC claims firing missile at F-16 plane entering Persian Gulf airspace

Karachi Police's tweet regarding KU professor Dr. Riaz's arrest and release


کراچی پولیس نے پروفیسر ڈاکٹر ریاض کی گرفتاری اور رہائی سے متعلق وضاحتی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

پروفیسر ڈاکٹر ریاض کی مبینہ گمشدگی اور بازیافتگی کا معاملہ

سوشل میڈیا پہ تشہیر کی جارہی ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ریاض جو جامعہ کراچی کے شعبہ کیمیا میں پڑھاتے ہیں کو تھانہ بہادرآباد بلاجواز لے جایا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس معاملے کی کچھ پیچیدہ و پوشیدہ وجوہات بھی ہیں۔

اس حوالے سے تھانہ بہادرآباد سے معلومات لی گئی۔ ایس ایچ او تھانہ بہادر آباد نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک روزمرہ کا معاملہ تھا۔ ان کو اطلاع ملی تھی کہ مقدمہ نمبر 35/2017 بجرم 23-1(A) تھانہ آرٹلری میدان ڈسٹرکٹ سائوتھ کا اشتہاری ریاض احمد ولد شمیم احمد ہے جو بوجہ اشتہار حسبِ ضابطہ و قانون مطلوب ہے اور وہ تھانہ بہادرآباد کے علاقہ میں میسر ہے۔

لہٰذا قانوناً ریاض احمد کو تھانہ لایا گیا جہاں انہوں نے واضح کیا کہ وہ جامعہ کراچی میں پروفیسر ہیں اور ماضی میں ان کے خلاف مزکورہ مقدمہ درج ہوا تھا جس میں وہ معزز عدالت سے بری ہوئے تھے۔*

اس سلسلے میں ان کا ریکارڈ, سی آر او و دیگر زرائع سے چیک کیا گیا۔ مزید ان کا ریکارڈ عدالتی ویب سائیٹ سے بھی حاصل کیا گیا جس میں ان کے بری ہونے کا تحریر تھا۔ نتیجتاً ان کو حسب ضابطہ چھوڑ دیا گیا۔ اس معاملے کا کوئی پوشیدہ پہلو نہیں ہے۔

ترجمان ایسٹ پولیس۔





Comments...