Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran Nawaz Sharif's tweet on ceasefire Between Iran and USA Nawaz Sharif's tweet on ceasefire Between Iran and USA Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire Jealous Indian media got furious over Pakistan’s diplomatic success Jealous Indian media got furious over Pakistan’s diplomatic success

Germany considers Afghan deportations after the death of police officer

Posted By: Muzaffar, June 05, 2024 | 06:05:14

Germany considers Afghan deportations after the death of police officer



پولیس اہلکار کا قتل، جرمنی نے افغان باشندوں کو ملک سے نکالنے کا ارادہ ظاہر کردیا

جرمنی ان افغان تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنے پر غور کر رہا ہے جو ملکی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

جرمنی میں گزشتہ ہفتے چاقو حملے میں ایک پولیس افسر کی ہلاکت کے بعد جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے ہجرت پر مزید سخت لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

روئٹرز کے مطابق اس طرح کا اقدام متنازع ہوگا کیونکہ جرمنی لوگوں کو ان ممالک میں واپس نہیں بھیجتا جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو۔

2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے افغانوں کی ملک بدری بند کر دی تھی۔

جرمن وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد از جلد فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

وزیر داخلہ نینسی فیزر نے صحافیوں کو کہا کہ ’یہ بات میرے لیے واضح ہے، جو لوگ جرمنی کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں، انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جانا چاہیے‘، اس میں افغانستان اور شام میں لوگوں کو بھیجنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا، ’میں اس بات پر بھی پوری طرح اٹل ہوں کہ جرمنی کے سکیورٹی مفادات واضح طور پر ان متاثر کرنے والوں کے مفادات سے زیادہ ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی دوسرے ممالک میں ملک بدری کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جمعے کو جرمنی کے شہر مانہیم میں ایک اسلام مخالف تقریب کے دوران افغانستان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان کے چاقو سے حملے میں چھ افراد شدید زخمی ہوئے تھے اور ایک پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔

حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا، جو جرمنی میں غیر قانونی طور پر مقیم نہیں تھا۔


Source





Advertisement





Popular Posts
Hamid Mir's tweet on hike in petrol prices

Hamid Mir's tweet on hike in petrol prices

Views 1061 | April 03, 2026
Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...