Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran Nawaz Sharif's tweet on ceasefire Between Iran and USA Nawaz Sharif's tweet on ceasefire Between Iran and USA Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA Jealous Indian media got furious over Pakistan’s diplomatic success Jealous Indian media got furious over Pakistan’s diplomatic success Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire

Peshawar: Father killed Qatar-returned son for hoisting PTI's flag on house roof



گھر پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لگانے پر تلخی: پشاور میں باپ نے قطر پلٹ بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں مبینہ طور پر والد نے اپنے بیٹے کو ایک سیاسی جماعت کا جھنڈا گھر پر لگانے اور اس ضمن میں ہونے والی تلخ کلامی کے بعد قتل کر دیا ہے۔

اس واقعے کا مقدمہ مقتول عطاالرحمان کے بھائی عارف الرحمان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں باپ بیٹا میں ’سیاسی گفتگو پر تکرار اور تلخ کلامی کا آغاز ہوا جس پر طیش میں آ کر والد نے اپنے پستول کی مدد سے اپنے بیٹے پر فائرنگ کر دی۔‘

اس مقدمے کے مدعی اور مقتول کے بھائی عارف الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بھائی قطر میں بسلسلہ روزگار مقیم تھا اور وہاں سینیٹری کا کام کرتا تھا۔

عارف کے مطابق ان کے بھائی دو ماہ کی چھٹی لے کر پشاور میں اپنے گھر آیا تھا اور اسے 20 روز بعد واپس قطر جانا تھا۔

عارف کہتے ہیں کہ ان کے والد اور بھائی میں بحث گھر کی چھت پر تحریک انصاف کا پارٹی پرچم لگانے سے شروع ہوئی جو بڑھتے بڑھتے تلخ کلامی تک پہنچ گئی اور طیش میں آ کر اُن کے والد نے عطا الرحمان پر گولی چلا دی۔

بی بی سی نے جب عارف سے رابطہ کیا تو وہ کافی رنجیدہ تھے۔

اُن کے مطابق گذشتہ روز اُن کا چھوٹا بھائی عطا پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا گھر لے کر آیا اور اسے چھت پر لگا دیا مگر یہ بات اُن کے والد کو پسند نہ آئی۔

عارف کے مطابق والد نے بھائی کو تاکید کی کہ ’ووٹ جس کو بھی دینا ہے دو، لیکن یہ جھنڈا لگانے والی بات صحیح نہیں ہے۔‘

عارف کہتے ہیں کہ اس بات پر ان کے چھوٹے بھائی نے والد سے بحث شروع کر دی کہ جھنڈا لگانا کوئی بڑی بات نہیں ہے اور بالآخر تکرار اس حد تک بڑھ گئی کہ نور رحمان نے پستول نکال کر اپنے بیٹے پر فائرنگ کر دی۔

اس کیس کی ایف آئی آر کے مطابق عطا الرحمان کو علاج کے لیے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا جا رہا تھا مگر وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔

یہ واقعہ پیش آنے کے بعد ملزم والد گھر سے فرار ہو گئے ہیں۔ ایس پی صدر ڈویژن عبدالسلام خالد کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

عارف کے مطابق ان کے والد کچھ عرصہ قبل ہی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ عارف کے مطابق ان کے والد کا تعلق بظاہر کسی سیاسی جماعت سے نہیں تاہم ان کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کی حمایت موجود ہے اور اسی جماعت کے نمائندے منتخب ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گھر میں تو اب غم کی فضا ہے۔ ہمارا کمانے والا بھائی اب نہیں رہا اور پورا علاقہ اس واقعے پر غمزدہ ہے۔‘

عارف کہتے ہیں کہ عطا الرحمان کی تدفین تو کردی گئی ہے مگر اب ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آگے کیا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اتنی بڑی بات نہیں تھی، بس باتوں باتوں میں تلخی اتنی بڑھی کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آئی۔۔۔‘


Source





Advertisement





Popular Posts
Hamid Mir's tweet on hike in petrol prices

Hamid Mir's tweet on hike in petrol prices

Views 1061 | April 03, 2026
Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...