Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Umar Cheema's tweet on Pakistanis hue & cry over UAE loan payback Umar Cheema's tweet on Pakistanis hue & cry over UAE loan payback Hamid Mir's views on Donald Trump's abusive language against Iran Hamid Mir's views on Donald Trump's abusive language against Iran Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Fayaz Chohan's tweet regarding Iran US possible negotiations Fayaz Chohan's tweet regarding Iran US possible negotiations Mohammad Malick's views on loan to be return to UAE Mohammad Malick's views on loan to be return to UAE First video of Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei has been released First video of Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei has been released

Drop scene of Margalla Hills Islamabad incident, the whole incident turned out to be fake


مارگلہ ہلز اسلام آباد پر زیادتی کا واقعہ ڈرامہ نکلا۔ خاتون منظم گروہ کی ممبر نکلی جو نعمان نامی شخص کو ٹریپ کرکے پیسے نکلوانا چاہتی تھی۔ پوری تفصیل جانئے رپورٹ میں

Youtube


ٹریل تھری پر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا، ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں لڑکی سے زیادتی ثابت نہیں ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریپ کی کہانی جھوٹی نکلی، معاملہ ملزم اور اس کے ساتھی کے درمیان لڑائی کا نکلا۔

ترجمان پولیس کے مطابق نامزد ملزم نعمان کا اپنے ساتھی انور سے جھگڑا ہوا تھا، انور نے نعمان سے بدلہ لینے کےلیے ایک گروہ کو اجرت پر لیا۔ گروہ میں صائمہ، سدرہ، شکیل اور منظور شامل تھے۔

انور نے نعمان پر زیادتی کا جھوٹا الزام لگانے کےلیے صائمہ نامی لڑکی سے رابطہ کیا، صائمہ نے سدرہ سے رابطہ کر کے نعمان کے ساتھ ریپ کا ڈرامہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔

اس منصوبے کے مطابق سدرہ نے ملزم کو لے کر ٹریل تھری پر جانا تھا، ٹریل تھری پر سدرہ نے ریپ کا ڈرامہ کر کے چیخ و پکار کرنا تھی جبکہ اسی دوران گروہ کے باقی لوگوں نے موقع پر پہنچ کر ویڈیوز بنانی تھیں۔

ویڈیوز بنا کر ملزم اور اس کے اہلِ خانہ کو بلیک میل کر کے بھتہ وصول کرنا تھا، سدرہ نے ملزم سے ٹریل تھری پر ملاقات کی لیکن اس کے ساتھی موقع پر نہ پہنچ سکے اور سدرہ کافی انتظار کے بعد ملزم کے ساتھ واپس راولپنڈی چلی گئی۔

بعدازاں سدرہ نے تھانے میں ایف آئی آر کروائی اور واپس شیخوپورہ چلی گئی۔

ترجمان پولیس کے مطابق پولیس نے معاملے کی ہر زاویے سے تفتیش کی، پولیس نے لڑکی کو تھانے طلب کیا تو اس نے مجسٹریٹ کے سامنے تمام حقائق اور منصوبے کے متعلق بتایا۔

پولیس کے مطابق یہ گروہ لوگوں کو ورغلا کر بلیک میل کرتا اور ان سے بھتہ وصول کرتا ہے، سدرہ کے خلاف شیخوپورہ اور مریدکے میں دو مقدمات درج ہیں۔ گروہ کا ایک کارندہ انوارالحق سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزم ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے متعلق سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی گئی جبکہ کیس زیر تفتیش تھا۔


Source



Comments...