Faisalabad's Session Court sentenced Wasim Abbas to death for blasphemy
فیصل آباد کی سیشن کورٹ نے جمعے کو توہین رسالت کے ایک ملزم وسیم عباس کو جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج رانا سہیل طارق نے وسیم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C کے تحت درج مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سزائے موت کے علاوہ پانچ لاکھ روپے جرمانے کا بھی حکم دیا ہے۔
جرمانے کی عدم ادائیگی پر مجرم کو مزید دو سال قید بھگتنا ہو گی۔
تھانہ فیکٹری ایریا کی پولیس نے قائد اعظم ٹاؤن کے رہائشی وسیم کے خلاف یاسر علی کی مدعیت میں 22 جون، 2020 کو توہین رسالت کے الزام میں C-295 سے کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق وسیم نے یاسر کو لکھے گئے خطوط میں پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز کلمات لکھے تھے۔
عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد وسیم کو پولیس کی سخت سکیورٹی میں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔
عدالتی فیصلے میں مجرم کو سات دن کے اندر لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔
سیشن کورٹ نے اپیل دائر نہ کرنے کی صورت میں وسیم کو لاہور ہائیکورٹ کی تصدیق کے بعد پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔
Source
Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US
Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran
Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA
Nawaz Sharif's tweet on ceasefire Between Iran and USA
First video of Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei has been released
Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire











