Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Umar Cheema's tweet on Pakistanis hue & cry over UAE loan payback Umar Cheema's tweet on Pakistanis hue & cry over UAE loan payback Hamid Mir's views on Donald Trump's abusive language against Iran Hamid Mir's views on Donald Trump's abusive language against Iran Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US Fayaz Chohan's tweet regarding Iran US possible negotiations Fayaz Chohan's tweet regarding Iran US possible negotiations Mohammad Malick's views on loan to be return to UAE Mohammad Malick's views on loan to be return to UAE First video of Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei has been released First video of Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei has been released

Vehari: Madrassa Ke Qari Ne 8 Saal Ke Bache Ko Sabaq Yaad Na Karne Per Jaan Se Maar Dia




ملتان: وہاڑی میں مدرسے کے قاری کے تشدد سے 8 سالہ طالب علم جاں بحق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ملتان کے ضلع وہاڑی کے نواحی گاؤں میں قاری نے سبق یاد نہ کرنے پر 8 سالہ طالب علم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

قاری کے تشدد کی وجہ سے 8 سالہ طالب علم جاں بحق ہوگیا جس کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

طالب علم کی ہلاکت کے بعد پولیس نے قاری کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کردیا۔ اہل خانہ کے مطابق بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں، قاری نے بچے کو تاروں سے مارا، وحشیانہ تشدد کی وجہ سے بچہ بے ہوش ہوگیا تھا۔

مقتول کے والد محمد یاسین نے بتایا کہ ’میرے دو بیٹے گزشتہ چار ماہ سے مدرسے میں زیر تعلیم تھے، 8 سالہ محمد شہزاد اور 6 سالہ محمد مبشر ناظرہ کی تعلیم کے لیے مدرسے جاتے تھے لیکن سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے میں نے پچھلے چند ماہ سے دونوں بیٹوں کو مدرسے میں ہی داخل کر دیا تھا۔‘

محمد یاسین کے مطابق ’مدرسے کا معلم پہلے بھی تشدد کرتا تھا اور میں نے پہلے بھی ان کو کہا تھا کہ بچوں کو مارا نہ کریں پڑھائی سے بھاگ جائیں گے، معلم کی یقین دہانی کے بعد ہی میں نے10 دن پہلے بچوں کو مدرسے میں چھوڑا تھا اور اپنے نمبر معلم کو دیے اور کہا کہ کسی مسئلہ کی صورت میں مجھے اطلاع دیں۔‘

محمد یاسین کہتے ہیں کہ مجھے صورتحال کا اس وقت پتہ چلا جب میرے چھ سالہ بیٹے کی لاش گھر پر لائی گئی۔

’شام کو مدرسے کے چند طالب علم چارپائی پر چھ سالہ مبشر کی لاش میرے گھر لے کر آئے، میرے بڑے بیٹے کے سامنے قاری صاحب نے تشدد کیا اور انہیں زمین پر پٹخ دیا جس کی وجہ سے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ چل بسا۔‘

محمد یاسین کے مطابق مدرسے میں 50 سے 60 طلبا زیر تعلیم ہیں۔

مقتول کے چچا محمد جمشید نے بتایا کہ' بچے پر تشدد کے بعد جب حالت بگڑی تو ایک مقامی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے جہاں ڈاکٹر نے کہا کہ بچے کی حالت تشویشناک ہے اسے فورا ہسپتال لے جائیں لیکن بچہ راستے میں ہی دم توڑ گیا تھا۔‘

اسپتال ذرائع کے مطابق قاری کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے طالب علم کی شناخت مبشر کے نام سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد ثابت ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا مگر واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا جاسکا۔



Source-1: ARY News

Source-2: UrduNews



Comments...