Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
They’ve taken too long to negotiate a deal.... now they will have to pay the price - Trump Tweets They’ve taken too long to negotiate a deal.... now they will have to pay the price - Trump Tweets DG Khan: The accused climbed on a palm tree to avoid arrest DG Khan: The accused climbed on a palm tree to avoid arrest Pakistan Army Mi-17 helicopter crashed, All onboard personnel martyred Pakistan Army Mi-17 helicopter crashed, All onboard personnel martyred Jhang: What do we know about the case of 17-year-old Eshal Fatima? Jhang: What do we know about the case of 17-year-old Eshal Fatima? Iran–US deal will be of 14 points - Abbas Araqchi tells some details of the agreement Iran–US deal will be of 14 points - Abbas Araqchi tells some details of the agreement India: Veg Biryani should be called Veg Pulav in Haridawar, demand by a Hindu group India: Veg Biryani should be called Veg Pulav in Haridawar, demand by a Hindu group

Prof. Sajid Mir Demands Explanation From Khadim Rizvi on His Remarks About Azan

Posted By: Majid Khan, November 14, 2020 | 22:38:41

Prof. Sajid Mir Demands Explanation From Khadim Rizvi on His Remarks About Azan




شعائر اسلام کی توہین کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی، ساجد میر

خادم رضوی اپنی ویڈیو کی وضاحت کریں ورنہ ہم قانونی راستہ اختیار کریں گے

اسلام ٹائمز۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر ساجد میر نے کہا ہے کہ شعائر اسلام کی توہین کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی، خادم رضوی اپنی ویڈیو کی وضاحت کریں ورنہ ہم قانونی راستہ اختیار کریں گے، ہم امن کے داعی ہیں، اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت ملک کیلئے زہر قاتل ہے، مذہبی راہنماؤں کو غیر شائستہ اور بازاری زبان زیب نہیں دیتی، اذان کی بے ادبی اور بے حرمتی کرکے خادم رضوی نے ہر مسلمان کا دل دکھایا ہے، مخالفت میں اخلاقی حدود کو پامال کرنا کہاں کی دین داری ہے؟ جامعہ ابراہیمیہ لاہور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ مذہبی راہنماؤں کو تبلیغ دین کے اصول نہیں بھولنے چاہییں، قرآن اور سیرت کی بنیادی تعلیمات سے مکمل انحراف کی بناء پر ہم انتہا پسندی اور عدم برداشت کا شکار ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کو قرآن اور سیرت کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے، قرآن ترجمے سے پڑھ کر اور سیرت کا مطالعہ کرکے ہی ہم اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھ سکتے ہیں اور اس پر عمل کرکے اپنے سماج کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن ہی ہمارا محور و مرکز اور ہدایت کا بنیادی سورس ہونا چاہیے ماورائے قرآن رویے اور نظریے ہمارے لئے گمراہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، قرآن اچھی گفتگو اور نرم لہجے کی تلقین کرتا ہے، اللہ نے اپنے رسول ؐ کو سخت زبان استعمال کرنے اور عدم برداشت کی اجازت نہیں دی اللہ کے بندے انتہا پسندی کے مرتکب کیسے ہو سکتے ہیں اور انتہا پسند عاشق رسول ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں فتنہ فساد کو قتل سے زیادہ برا قرار دیا ہے، قرآن کی واضح آیات کی روشنی میں ایک مسلمان کسی صورت انتہا پسند نہیں ہو سکتا جو لوگ انتہا پسندی کا شکار ہیں وہ قرآن و سیرت کی روشنی میں اپنی اصلاح کرکے توبہ کریں۔

پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ قرآن کے مطابق عفو، در گزر اور برداشت اسلام کے سنہری اصول ہیں، اللہ کے رسول ؐ نے برداشت کے اعلیٰ نمونے پیش کیے، مکہ کے کفار نے ان کو اذیتیں دیں اور توہین کے مرتکب ہوئے مگر آپ ؐ نے اکثر اوقات اپنے صحابہ کو صبر، تحمل اور برداشت کا سبق دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جنونیت انتہاء پسند کلچر کا شاخسانہ ہے جو فرقہ وارانہ نصاب کی وجہ سے پروان چڑھ رہا ہے۔



Source





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...