
اسلام آباد : پاکستانی فضائیہ کو ایبٹ آباد میں اساما بن لادن کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے بارے میں ٹی وی نیوز سے معلوم ہوا، اور جب اس کے لڑاکا طیارے حرکت میں آئے تو امریکیوں کو گئے کافی دیر ہوچکی تھی۔
آسان الفاظ میں پاکستان کے پاس اپنی مغربی سرحد سے آنے والے امریکی ہیلی کاپٹرز کو دیکھنے کا موقع ہی نہ ملا اور اگر اس طرح کا حملہ ایک بار پھر ہو تو پاکستانی فضائیہ اسے روکنے کی اہل نہیں۔
یہ دعویٰ ایبٹ آباد واقعے پر قائم پاکستانی کمیشن کی لیک شدہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کو امریکی چھاپے کے بارے میں کبھی معلوم نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ امریکی طیارے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس تھے، ان کی آواز نہ ہونے کے برابر تھی اور سب سے بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی فضائی دفاع کی ساری توجہ بھارتی سرحد پر ہے افغانستان پر نہیں۔
رپورٹ میں پاک فضائیہ کے نامعلوم نائب چیف آف ائیر اسٹاف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو امریکاکی جانب سے اس طرح کے اقدام کی کبھی توقع ہی نہیں تھی، اساما کیخلاف یہ کارروائی اتنی غیرمتوقع تھی کہ اس سے قبل پاکستانی حکام نے شمال مغربی سرحد پر ریڈار لگانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ریڈار اس سرحد پر نگرانی کیلئے موجود بھی ہوتے تو بھی کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا، پاک فضائیہ کی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ریڈار سسٹم کے ہوتے ہوئے مستقبل میں بھی اس طرح کے امریکی آپریشن کو روکنا بہت مشکل ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا واحد ملک ہے جو آپریشنل لیول پر اسٹیلتھ ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے اور پی اے ایف کے پاس ایسے ریڈار ہی نہیں جو اسٹیلتھ طیاروں کو چیک کرسکیں۔
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کو ایبٹ آباد آپریشن کا 2 مئی کی شب 2 بج کر 7 منٹ پر معلوم ہوا، اس وقت آپریشن کو شروع ڈیڑھ گھنٹہ گزر اور ختم ہوئے 40 منٹ گزر چکے تھے۔
نائب ائیر اسٹاف کے بقول ہمیں تو معلوم ہی اس وقت ہوا جب ٹی وی چینیلز پر آنا شروع ہوا کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد یں گرگیا ہے، اس وقت تک امریکی سیلز کے آپریشن کو ختم ہوئے 40 منٹ ہوچکے تھے اور امریکی فورسز پاکستانی سرزمین پر 2 گھنٹے گزارنے کے بعد حادثے کے شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کو تباہ کرکے ایک بج کر 10 منٹ پر واپس چلی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب پاکستانی طیارے ایبٹ آباد میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ آخر وہ وہاں دیکھنے کیا جارہے ہیں۔
نائب ائیر اسٹاف نے اسے پاکستانی تاریخ کا شرمناک ترین واقعہ قرار دیا۔
Hamid Mir's tweet on hike in petrol prices
US federal agents arrest the niece & grand-niece of late Iranian General Qassem Soleimani after revoking their green card
Mubashir Zaidi's tweet on the arrest of Qassem Soleimani's niece & grand niece in America
Bilal Ghauri's tweet: What Iranian leaders' children are doing in America?
Umar Cheema's tweet on Pakistanis hue & cry over UAE loan payback
Hamid Mir's views on Donald Trump's abusive language against Iran








