Zulfi Bukhari's Name Was Not on ECL - Interior Ministry

اسلام آباد: (دنیا نیوز) نگران وزیرِاعظم کو پیش کرنے کیلئے وزارتِ داخلہ کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں نہیں تھا، نیب کی درخواست پر بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا، ملک سے باہر بھیجنے کیلئے صوابدیدی اختیارات ہیں۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ بلیک لسٹ میں شامل شخص کو بیرون ملک بھیجنے کے صوابدیدی اختیارات موجود ہیں، ان اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے زلفی بخاری کو عمرہ ادائیگی کی اجازت دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیرِاعظم ناصر الملک کو پیش کرنے کیلئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے پاس بلیک لسٹ میں شامل شخص کو ایک بار بیرونِ ملک بھیجنے کے صوابدیدی اختیارات موجود ہیں، جنہیں استعمال کرتے ہوئے زلفی بخاری کو عمرہ کیلئے جانے کی اجازت دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سیکرٹری داخلہ کو فون کر کے زلفی بخاری کے واپس آنے کی یقین دہانی کرائی جس پر وزارتِ داخلہ نے صوابدیدی اختیارات استعمال کئے۔
خیال رہے کہ زلفی بخاری پر آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا الزام ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) میں اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
Source
Mubashir Zaidi's tweet on possible nuclear attack on Iran by US
Moonis Elahi's tweet on ceasefire between USA and Iran
Nawaz Sharif's tweet on ceasefire Between Iran and USA
Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA
Jealous Indian media got furious over Pakistan’s diplomatic success
Rauf Klasra's tweet on Iran and US negotiations for ceasefire










