Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Breaking News: US attacks missile sites in southern Iran Breaking News: US attacks missile sites in southern Iran Rauf Klasra's hard hitting tweet replying to Imran Riaz Khan after he tried to defend Imran Khan Rauf Klasra's hard hitting tweet replying to Imran Riaz Khan after he tried to defend Imran Khan Bangladesh restores 'except Israel' condition on passports Bangladesh restores 'except Israel' condition on passports Viral Video: Paraglider survives near-death after hit by plane midair Viral Video: Paraglider survives near-death after hit by plane midair PTI's Ali Muhammad Khan & Sher Afzal Marwat's tweets addressing each other PTI's Ali Muhammad Khan & Sher Afzal Marwat's tweets addressing each other Breaking News: 14 martyred in Quetta shuttle train blast Breaking News: 14 martyred in Quetta shuttle train blast



معروف سرچ انجن گوگل نے ایک ٹول متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے صارف یہ فیصلہ کر پائے گا کہ اس کے انتقال یا آن لائن پر غیرفعال ہوجانے کی صورت میں اس کے ڈیٹا کے ساتھ کیا کیا جائے۔

یہ سہولت گوگل کے تحت چلنے والی تمام ای میل سروسز، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ گوگل پلس اور دیگر اکاؤنٹس پر موجود ہوگی۔
اس ٹول کے تحت گوگل اپنے صارفین کو یہ اختیار یا موقع فراہم کرے گا کہ وہ خود یہ طے کریں کہ اگر وہ مر جاتے ہیں یا آن لائن یا غیر فعال ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں ان کے ڈیٹا کے ساتھ کیا کیا جائے۔
گوگل ایسے حساس معاملے پر کام کرنے والی پہلی بڑی کمپنی بن گئی ہے۔
صارف اس ٹول کو استعمال کرتے ہوئے یہ طے کرے گا کہ ایک خاص مدت کے بعد اس کے زیرِاستعمال اکاؤنٹ یا ڈیٹا کو مٹا یا ختم کر دیا جائے یا پھر وہ یہی اختیار کسی انسان کے سپرد بھی کر سکتا ہے۔
دنیا بھر سے انٹرنیٹ کے صارفین نے اس بات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ ان کے انتقال کے بعد معلوم نہیں ان کے ڈیٹا کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
ایک بلاگ پوسٹ پر گوگل نے کہا، ’ہمیں امید ہے کہ یہ نیا آپشن آپ کو آپ کے ڈجیٹل ڈیٹا کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار اس انداز میں دے گا کہ آپ کی حفاظت اور تخلیے میں خلل نہ پڑے اور آپ کے بعد آپ کے پیاروں کی زندگی آسان رہے۔‘
کیلی فورنیا کی کمپنی گوگل ویڈیوز کی سائٹ یو ٹیوب، فوٹو شیئرنگ سروس پکاسا اور بلاگر جیسی سائٹس بھی چلاتی ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ ان کا صارف تین، چھ، نو یا بارہ مہینے غیر فعال رہنے پر اپنے ڈیٹا کو ختم یا مٹا دینے کا اختیار استعمال کر سکتا ہے، بصورت دیگر مخصوص اکاؤنٹس پر اُن کے ڈیٹا کو منتقل کرنے کی سہولت بھی اسی ٹول کے زریعے مہیا کی جائے گی تاہم گوگل صارف کی جانب سے مہیا کیے گئے نمبر یا ثانوی ای میل ایڈریس پر ڈیٹا منتقل کرنے سے قبل خبردار ضرور کرے گا۔
خیال رہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اپنا اعدادی مواد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، ای میل اور دیگر سہولتوں پر رکھتے ہیں تاکہ ضرورت کے وقت آسانی سے مہیا ہو سکے۔
اس سے قبل دیگر کمپنیوں نے بھی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تھی جو کسی صارف کے انتقال کے بعد پیدا ہوتا ہے کہ اس کی موت کی صورت میں انٹر نیٹ پر موجود ڈیٹا کا کیا کیا جائے۔


Source: BBC NEWS URDU





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...